بغداد – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عراق کے داخلی سیاسی معاملات میں مداخلت پر دارالحکومت بغداد میں عوام سڑکوں پر نکل آئے، جہاں گرین زون کے قریب شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ٹرمپ کے بیان کے بعد سابق وزیر اعظم نوری المالکی کے حامیوں نے احتجاج کرتے ہوئے امریکا مخالف نعرے بازی کی اور عراقی خودمختاری کے حق میں مظاہرے کیے۔
مظاہرین نے عراقی پرچم لہراتے ہوئے امریکی پرچم کی تصاویر نذرِ آتش کیں اور واضح کیا کہ عراق کے اندرونی معاملات میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ عراقی عوام کو اپنے سیاسی فیصلے خود کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور ملک کے وزیر اعظم کے انتخاب پر امریکا کو کوئی رائے دینے کا اختیار نہیں۔
مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ عراق ایک خودمختار ریاست ہے اور اس کی سیاسی قیادت کا تعین صرف عوام اور منتخب اداروں کے ذریعے ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں خبردار کیا تھا کہ اگر عراق میں نوری المالکی دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تو امریکا عراق کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرے گا۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ نوری المالکی کا دوبارہ اقتدار میں آنا عراق کے لیے ’’غلط فیصلہ‘‘ ہوگا۔ ان کے بقول المالکی کے دورِ حکومت میں ملک غربت، بدامنی اور عدم استحکام کا شکار رہا، جبکہ امریکی تعاون کے بغیر عراق کی کامیابی، خوشحالی اور آزادی کے امکانات ’’تقریباً صفر‘‘ ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کو عراق میں کھلی سیاسی مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث ملک میں عوامی غصہ اور امریکا مخالف جذبات میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
