صومالیہ اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا

0

ریاض – صومالیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ یہ معاہدہ ریاض میں صومالی وزیرِ دفاع احمد معلم فقی اور سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے درمیان طے پایا۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مضبوط بنانا اور مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں فوجی تعاون کو فروغ دینا ہے، تاہم معاہدے کی تفصیلات تاحال منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صومالیہ نے گزشتہ ماہ قطر کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا تھا، جس میں فوجی تربیت، تجربات کے تبادلے اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے جیسے پہلو شامل ہیں۔

صومالیہ کی جانب سے دفاعی سفارت کاری میں تیزی ایسے پس منظر میں دیکھی جا رہی ہے جب دسمبر میں اسرائیل نے صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے ’صومالی لینڈ‘ کو تسلیم کیا۔ موغادیشو حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل صومالی لینڈ میں فوجی اڈہ قائم کر سکتا ہے، جس کی صومالی حکومت نے سخت مخالفت کی ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صومالی صدر حسن شیخ محمود نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ صومالیہ کسی بھی صورت اپنی سرزمین پر اسرائیلی فوجی اڈے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسی کسی بھی کوشش کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ صومالیہ نے گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام معاہدے منسوخ کر دیے تھے، حکومت کا مؤقف تھا کہ امارات کے بعض اقدامات صومالیہ کی قومی خودمختاری کے منافی ہیں۔

دفاعی معاہدات اور علاقائی صف بندی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یمن اور سوڈان سے جڑے تنازعات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں، جس کے باعث خلیجی اور بحیرۂ احمر کے خطے میں سیاسی و عسکری صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.