اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، سلمان اکرم راجا
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، یہاں ہم درخواستیں دائر کرسکتے ہیں لیکن سنوائی نہیں ہوتی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو میں سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بانی تک معالجین اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کر رہے ہیں، عدالت نے ہفتہ وار ایک وکلا اور دوسری فیملی سے ملاقات کرانے کا حکم دیا، وزیراعلیٰ کے ہمراہ پیش ہوئے تو جیل سپریٹنڈنٹ کو ملاقات کرانے کا کہا گیا، ہم اُسی روز اڈیالہ جیل گئے مگر ہماری ملاقات نہیں کرائی گئی۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن وہ آج تک نہیں لگی، توہین عدالت کی پرانی درخواستیں لگائی گئیں اور انہیں یک جنبش قلم نمٹا دیا گیا، ہائی کورٹ نے اپنے ہی آرڈر کی حکم عدولی پر کوئی ایکشن نہیں لیا، ہائیکورٹ کی جانب سے ایکشن نہ لئے جانے پر ہم سپریم کورٹ چلے گئے، طبی معائنے کے لیے بھی درخواستیں دائر کیں لیکن سماعت نہیں ہوسکی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ٹوئٹر کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف ایک کیس مقرر ہے، میں نے کہا کہ ملاقات کے بغیر بانی کا جواب کیسے داخل کرایا جاسکتا ہے؟ اس مقدمے میں بھی عدالت نے بانی سے ملاقات کرنے کی ہدایات جاری کیں، میری ملاقات نہیں ہوئی مگر عدالت نے کیس میں بھی کارروائی آگے بڑھادی، عدالت کہہ رہی ہے ملاقات کے بغیر ہی جواب داخل کرائیں اور بحث بھی کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے فیصلہ کیا کہ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے عدالت میں کھڑے ہو کر پوچھیں گے، کیسز ختم ہونے پر وزیراعلیٰ نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے، یہاں سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے،بانی کا مقدمہ قوم اور عوام کو لڑنا پڑے گا۔