وفاقی محتسب کو سرکاری ملازمین کے ذاتی سروس معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے ، وفاقی آئینی عدالت
وفاقی آئینی عدالت نے ٹیلی فون انڈسٹریز آف پاکستان کے ریٹائرڈ ملازم غلام عباس کی پنشن واجبات کی درخواست خارج کر دی ، جسٹس سید حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب کو سرکاری ملازمین کے ذاتی سروس معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے، سروس معاملات اور ذاتی ملازمت کے تنازعات کیلئے قانون کے تحت مخصوص فورمز موجود ہیں ، وفاقی محتسب کے قیام کا مقصد صرف انتظامی بدعنوانی کی تحقیقات ہے، وفاقی محتسب سروس معاملات کا فیصلہ نہیں کر سکتا ، کسی ادارے کی رضامندی یا خاموشی سے کسی فورم کو وہ اختیار نہیں مل سکتا جو قانون میں موجود نہ ہو۔
عدالت کا کہناتھا کہ سرکاری افسر کی یقین دہانی سے وفاقی محتسب کو وہ قانونی اختیار نہیں مل سکتا جو قانون میں موجود نہیں،وفاقی محتسب کا حکم قانوناً کالعدم تھا ، صدرِ پاکستان کا توثیقی حکم بھی وفاقی محتسب کے غیر قانونی فیصلے کو قانونی نہیں بنا سکتا،وفاقی محتسب کے دائرہ اختیار سے باہر احکامات ہائی کورٹ آرٹیکل 199 کے تحت کالعدم قرار دے سکتی ہے۔
ٹی آئی پی نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف آرٹیکل 32 کے تحت صدر پاکستان کے پاس اپیل دائر کی تھی ، صدر پاکستان نے اپیل زائد المیعاد ہونے کی بنیاد پر خارج کر دی تھی ، درخواست گزارکا مؤقف تھا کہ صدر کی جانب سے اپیل خارج ہونے کے بعد محتسب کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے، ٹی آئی پی کے ریٹائرڈ ملازم غلام عباس نے پنشن واجبات اور الاؤنس نہ ملنے پر وفاقی محتسب سے رجوع کیا تھا ، وفاقی محتسب نے ٹی آئی پی کے افسر کی یقین دہانی پر ملازم کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے محتسب کے فیصلے کو دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔