برطانیہ میں ’مسلم مخالف نفرت‘ کی نئی تعریف، مذہبی تشدد اور ہراسانی شامل

New definition of 'anti-Muslim hate' in Britain, includes religious violence and harassment

لندن – برطانوی حکومت نے ’مسلم مخالف نفرت‘ کی نئی تعریف متعارف کرادی ہے، جس میں مسلمانوں کے خلاف تشدد، ہراسانی اور متعصبانہ دقیانوسی تصورات کو شامل کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسے قانون کے مستقل اطلاق کو ممکن بنانا ہے جو ’مسلم مخالف نفرت‘ کے جرائم کے خلاف مؤثر ہو، جبکہ آزادی اظہار کے حقوق کو متاثر نہ کرے۔

رپورٹس کے مطابق 2024ء میں انگلینڈ اور ویلز میں تقریباً 4 ہزار 500 ایسے نفرت انگیز جرائم ہوئے جن میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، جو مذہبی بنیادوں پر ہونے والے جرائم کا نصف حصّہ بنتے ہیں۔ اس میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں غلطی سے مسلمان سمجھا گیا۔

حکومت نے کہا کہ نئی تعریف لوگوں کو ایسے رویوں سے بچانے کے لیے ضروری تھی جو خوف و تقسیم پیدا کرتے ہیں۔ اسلام سمیت دیگر مذہبی عقائد پر جائز تنقید کا حق اب بھی برقرار ہے، اور آزادی اظہار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

دوسری جانب حزب اختلاف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس تعریف کے بعد ’توہین رسالت کا قانون‘ بننے کا خطرہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف غیر قانونی نفرت انگیزی اور جائز مذہبی تنقید کے درمیان فرق دھندلا ہو سکتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے