امریکی مذہبی آزادی کمیشن کی رپورٹ: بھارت کو “خاص تشویش کا ملک” قرار دینے اور RAW و RSS پر پابندیوں کی سفارش

واشنگٹن:  امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (United States Commission International Religious Freedom) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں مودی سرکار کے فاشسٹ چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارت کو "خاص تشویش والے ممالک” (Country of Particular Concern) کی فہرست میں برقرار رکھنے اور ہندوتوا کے علمبردار اور جاسوسی ادارے RAW پر فوری طور پر عالمی پابندیاں لگانے کی سفارش کر دی ہے۔

رپورٹ میں امریکہ کے آرمز ایکسپورٹ کنٹرول ایکٹ کے سیکشن 6 تحت مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت پر پابندی کا واضح مطالبہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں RSS اور RAW پر ٹارگٹڈ پابندیاں لگاتے ہوئے ان کےاثاثےمنجمد کیے جائیں اوران کے امریکہ داخلے پرمکمل پابندی عائد کی جائے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی RAW کی جانب سے کینیڈا اور امریکہ میں مقیم سکھ اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف "ٹرانس نیشنل ریپریشن” کی مہم کو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کو ان مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیقات اور پراسیکیوشن کا حکم دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں RSS کے زیرِ سایہ ہندو قوم پرست گروہوں کو "سزا سے مکمل استثنیٰ” حاصل ہے، جبکہ اقلیتی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کو جیلوں میں بنیادی طبی سہولیات سے محروم رکھ کر "خاموش قتل” کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ نے واضح کیا ہے کہ بھارت میں نافذ کردہ "اینٹی کنورژن” قوانین اور تعلیمی بائیکاٹ جیسی پالیسیاں دراصل مسلمانوں اور عیسائیوں کو معاشی اورسماجی طور پر مفلوج کرنے کا ایک ہتھیار ہیں۔

بھارتی پروپیگنڈا مشینری اور لابی گروپس کی جانب سے امریکی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کے ضمن میں بھارتی ایجنٹوں کی lobbying پر پابندی لگانے کی تجویز بھارت کی عالمی سطح پر رسوائی کا واضح ثبوت ہے۔

مئی 2025 کی عسکری ہزیمت کے بعد اب سفارتی محاذ پر یہ عبرتناک رسوائی ثابت کرتی ہے کہ ہندوتوا کا نظریہ اب عالمی امن کے لیے سب سے بڑا کینسر تسلیم کر لیا گیا ہے اور بھارت کا "عالمی طاقت” بننے کا ڈھونگ بری طرح پٹ چکا ہے

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے