“جنگ شطرنج کا بڑا کھیل ہے”، ایرانی بہت ذہین، ہوشیار اوراسٹریٹجک صلاحیت رکھتے ہیں، ٹرمپ

ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنا وقت کا ضیاع، ایران کی قیادت بدلنا چاہتے ہیں، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کو ایک “شطرنج کے بڑے کھیل” سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور اسٹریٹجک تنازع ہے جس میں فریقین بہت زیادہ ذہانت اور حکمت عملی کے ساتھ فیصلے کر رہے ہیں۔

Donald Trump نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ موجودہ صورتحال ایک عام جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا پیچیدہ اسٹریٹجک مقابلہ ہے جس میں فریقین انتہائی ذہین اور اعلیٰ سطح کی سوچ رکھنے والے افراد پر مشتمل ہیں۔ ان کے مطابق:
“ہم ایسے لوگوں کے ساتھ شطرنج کھیل رہے ہیں جو نہ صرف ہوشیار ہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی اسٹریٹجک صلاحیت رکھتے ہیں۔”

ٹرمپ کے اس بیان کو مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور امریکا اس صورتحال میں ایک اہم سفارتی و عسکری فریق کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ اگر Iran کی جانب سے Qatar پر دوبارہ کوئی حملہ نہیں کیا جاتا تو Israel ایران کے اہم توانائی منصوبے South Pars Gas Field پر مزید حملے نہیں کرے گا۔

ٹرمپ کے مطابق اسرائیل نے حالیہ عرصے میں خطے کی جنگی صورتحال پر غصے اور ردعمل کے طور پر ایران کے گیس فیلڈ پر کارروائی کی تھی، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

ان بیانات نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، جہاں توانائی کے مراکز، عسکری کارروائیاں اور سفارتی بیانات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات نہ صرف سیاسی پیغام دیتے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور مستقبل کی سفارتی سمت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے