برطانیہ اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اس وقت اضافہ دیکھنے میں آیا جب Foreign, Commonwealth & Development Office نے لندن میں تعینات ایرانی سفیر Seyed Ali Mousavi کو طلب کر کے مبینہ جاسوسی سرگرمیوں پر سخت احتجاج ریکارڈ کرایا۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ اقدام حالیہ دنوں میں دو افراد پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا، جن میں ایک ایرانی شہری جبکہ دوسرا دوہری شہریت کا حامل ہے۔ ان افراد پر National Security Act کے تحت غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کو معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔
لندن میں مبینہ جاسوسی نیٹ ورک
رپورٹس کے مطابق دونوں ملزمان نے لندن میں اسرائیلی کمیونٹی سے متعلق مقامات کی نگرانی کی، جن میں ایک یہودی عبادت گاہ بھی شامل ہے۔ استغاثہ کے مطابق یہ سرگرمیاں ممکنہ اہداف کی ریکی کے زمرے میں آتی ہیں، جس سے Iran کی انٹیلی جنس کے ساتھ روابط کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برطانوی پولیس اور داخلی انٹیلی جنس ایجنسی MI5 پہلے ہی ایران کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے خبردار کرتی رہی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران، United States اور Israel کے ساتھ کشیدگی میں ہے۔
ایٹمی اڈے میں دراندازی کی کوشش
ایک اور واقعے میں ایک ایرانی مرد اور ایک رومانی خاتون پر اسکاٹ لینڈ میں واقع HMNB Clyde (فاسلین بیس) میں داخل ہونے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اڈہ برطانیہ کے ایٹمی دفاعی نظام Trident کا مرکز ہے، جہاں بیلسٹک میزائلوں سے لیس آبدوزیں تعینات ہیں۔
سفارتی و سیکیورٹی خدشات میں اضافہ
برطانوی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور ایران کی مبینہ “عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں” کو بے نقاب کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ نے United States کو ایران کے خلاف بعض فوجی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ United Kingdom خود بھی ممکنہ جوابی اقدامات کا ہدف بن سکتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے بلکہ یورپ میں سیکیورٹی خدشات کو بھی بڑھا رہی ہے۔
