اقوام متحدہ نے خلیجی ممالک پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کر دی

سلامتی کونسل نے طالبان پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کر دی

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی، جس کی حمایت 100 سے زائد ممالک نے کی۔

یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر ہنگامی اجلاس میں پیش کی گئی۔ قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی گئی اور بین الاقوامی سطح پر ایران پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیا گیا۔

امارات کی وزارت خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازع کا حصہ نہیں ہیں۔

قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہاز رانی میں مداخلت کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کی حفاظت اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے۔

مزید برآں قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور ایران سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ فراہم کرے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس قرارداد کی اتنی بڑی تعداد میں حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی واضح عکاسی کرتی ہے اور ممکنہ طور پر خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے