پوپ لیو نے کیمرون میں اپنے دورے کے دوران عالمی رہنماؤں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اس وقت “مٹھی بھر ظالموں” کے ہاتھوں تباہی کی طرف دھکیلی جا رہی ہے، جبکہ جنگوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقتور رہنما جنگوں کو جواز دینے کے لیے مذہبی اور سیاسی زبان استعمال کر رہے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق جنگ “لمحوں میں تباہی” لاتی ہے، لیکن اس کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے پوری زندگی بھی ناکافی ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دنیا میں وسائل کا بڑا حصہ جنگی سرگرمیوں پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور بحالی جیسے بنیادی انسانی شعبے شدید نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔ پوپ نے اسے “اخلاقی اور انسانی ترجیحات کی سنگین ناکامی” قرار دیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوپ لیو کو حالیہ دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس کشیدگی نے ان کے افریقہ کے دورے کو غیر معمولی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
پوپ لیو نے خاص طور پر افریقہ کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری جنگیں، خصوصاً کیمرون کے بعض علاقوں میں طویل مسلح کشیدگی، اس بات کی علامت ہیں کہ عالمی برادری امن کے قیام میں ناکام ہو رہی ہے۔
انہوں نے کیتھولک رہنماؤں اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ “فیصلہ کن تبدیلی” لائیں اور جنگی مفادات کے بجائے انسانی فلاح کو ترجیح دیں۔
