ماسکو — روس کے وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے امریکا کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کی بیشتر فوجی مداخلتیں توانائی وسائل، خصوصاً تیل، کے حصول سے جڑی ہوئی ہیں۔
اپنے بیان میں لاوروف نے کہا کہ امریکا اپنی مداخلتوں کو چھپاتا نہیں اور یہ بات واضح ہے کہ ان کا بنیادی مقصد تیل اور توانائی کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے Iran اور Venezuela کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کے خلاف امریکی پالیسیوں میں بھی یہی عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ کے مطابق United States عالمی توانائی منڈیوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے، جن میں فوجی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ واشنگٹن اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے بعض اوقات بغاوتوں کی حمایت، اغوا اور حتیٰ کہ سیاسی رہنماؤں کے قتل جیسے اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتا۔
سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل کے باعث بین الاقوامی قوانین اور عالمی نظام کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے، اور دنیا ایک ایسے ماحول کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں طاقت ہی فیصلہ کن عنصر بن چکی ہے۔
