بھارتی صحافیوں کے بیانات، پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں بھارت کے ممکنہ کردار کی جانب اشارے

Statements by Indian journalists hint at India's possible role in terrorist attacks in Pakistan

بھارتی میڈیا سے وابستہ صحافیوں کے حالیہ بیانات نے خطے کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں بھارت کے ممکنہ کردار کی جانب اشارے کیے گئے ہیں۔

بھارتی صحافی آدتیہ راج کول نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے لال قلعہ دھماکے کے محض 24 گھنٹے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والے خودکش حملے کے پس منظر کو “سمجھنا مشکل نہیں”۔ ان کے اس بیان کو بعض حلقوں کی جانب سے ایک بالواسطہ اعتراف یا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں کارروائیوں کے لیے شناخت چھپانے کے مختلف طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں، جن میں افغان، بھارتی، بنگلہ دیشی یا مقامی افراد کا استعمال بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کارروائیوں میں کردار ادا کرنے والوں کی اصل شناخت اکثر سامنے نہیں آتی۔

اسی تناظر میں بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسر راجیش پاور کے ایک سابق بیان کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے بعض گروہوں کو بیرونی مدد حاصل ہے۔ ان کے مطابق کچھ تنظیمیں افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے کارروائیاں کرتی ہیں۔

دوسری جانب سرکاری سطح پر ان بیانات کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم سکیورٹی ماہرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں جو مستقبل میں سفارتی اور دفاعی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے