برطانوی حکومت نے تمباکو نوشی کے خلاف اپنی تاریخ کی سب سے سخت قانون سازی کو حتمی شکل دے دی ہے، جس کے تحت مستقبل کی نسلوں کے لیے سگریٹ خریدنا مستقل طور پر ممنوع ہو جائے گا۔ یہ قانون شاہی منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔
نئی قانون سازی کیا ہے؟
برطانوی پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے “ٹوبیکو اینڈ ویپس بل” کے تحت ایک نیا اصول متعارف کرایا گیا ہے جسے “رولنگ ایج ریستریکشن” کہا جاتا ہے۔
اس قانون کے مطابق:
- یکم جنوری 2009 کو یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کبھی بھی قانونی طور پر سگریٹ نہیں خرید سکیں گے
- ہر سال تمباکو خریدنے کی قانونی عمر ایک سال آگے بڑھتی جائے گی
- اس طرح ایک پوری نسل کو تاحیات سگریٹ نوشی سے قانونی طور پر روک دیا جائے گا
ویپنگ اور نیکوٹین پر بھی سخت پابندیاں
اگرچہ قانون میں ویپنگ (Vaping) پر مکمل پابندی شامل نہیں، تاہم حکومت کو وسیع اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ:
- ویپ کے ذائقوں کو محدود کر سکے
- پیکجنگ اور مارکیٹنگ پر سخت کنٹرول لگا سکے
- دکانوں میں ڈسپلے اور فروخت کے طریقہ کار کو ریگولیٹ کرے
حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات نوجوانوں اور غیر سگریٹ نوش افراد کو نیکوٹین کے استعمال سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔
عوامی ردعمل: حمایت اور مخالفت دونوں
لندن میں عوامی رائے منقسم نظر آتی ہے۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کو روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایک نوجوان طالب علم کے مطابق موجودہ دور میں سگریٹ اور ویپنگ بہت عام ہو چکی ہے، جسے روکنا ضروری ہے۔
دوسری طرف ناقدین کا مؤقف ہے کہ:
- لوگ متبادل ذرائع سے سگریٹ یا نیکوٹین حاصل کر لیں گے
- پابندی سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا بلکہ صرف شکل بدل جائے گی
- بالغ افراد کے لیے ذاتی انتخاب کی آزادی متاثر ہو رہی ہے
صحت عامہ کا مؤقف
صحت عامہ کے ادارے “ایکشن آن سموکنگ اینڈ ہیلتھ (ASH)” نے اس قانون کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
- نوجوانوں میں سگریٹ نوشی پہلے ہی کم ہو رہی ہے
- یہ پالیسی وقت کے ساتھ مکمل طور پر تمباکو نوشی ختم کرنے کی طرف لے جا سکتی ہے
- مستقبل میں لاکھوں اموات کو روکا جا سکے گا
حکومتی ماڈلز کے مطابق متاثرہ نسلوں میں سگریٹ نوشی کی شرح تقریباً صفر تک گر سکتی ہے، جس سے قومی صحت کے نظام پر دباؤ بھی کم ہوگا۔
قانونی اور سماجی بحث
ماہرین کے مطابق یہ دنیا کی پہلی بڑی قانون سازی ہے جو کسی مخصوص نسل پر تاحیات تمباکو پابندی عائد کرتی ہے، جس نے آزادیٔ انتخاب، ریاستی مداخلت اور صحت عامہ کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
برطانیہ کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر دیگر ممالک کی تمباکو پالیسیوں کے لیے بھی ایک ممکنہ مثال بن سکتا ہے۔
