United States Central Command (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج عرب اور اس کے قریبی آبی راستوں میں اس وقت 87 مختلف ممالک کے بحری جہاز موجود ہیں، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران عالمی سمندری تجارت کی غیر معمولی حساس صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ تمام جہاز دنیا بھر کی تجارتی اور توانائی ترسیل کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو اس وقت غیر یقینی سیکیورٹی ماحول سے گزر رہے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی افواج نے اب تک تقریباً 50 تجارتی بحری جہازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں تاکہ انہیں ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام اس وسیع سمندری حکمت عملی کا حصہ ہے جسے واشنگٹن "پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز اور قریبی پانیوں میں بحری نقل و حرکت کو برقرار رکھنا ہے۔
