امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے حوالے سے ایک بار پھر امکان ظاہر کیا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے اور خطے میں جاری صورتحال ختم ہونے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک عوامی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات “مثبت سمت” میں جا رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ان کے مطابق، “ہمیں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ زیادہ تر لوگ یہ بات سمجھتے ہیں اور یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔”
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے بعض بنیادی نکات پر اتفاق کیا ہے، جن میں جوہری ہتھیار نہ بنانے کا اصول بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان معاہدے کے امکانات “انتہائی زیادہ” ہیں اور اگر بات چیت کامیاب ہو گئی تو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے لیے صورتحال درست سمت میں جا رہی ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو “سخت اقدامات” دوبارہ زیر غور آ سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، “اگر نتیجہ نہ نکلا تو ہمیں سخت راستے پر واپس جانا ہوگا۔”
ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران میں جوہری پروگرام کے حوالے سے زیر زمین تنصیبات کو فعال نہ رکھنے کی شرط پر بات چیت ہو رہی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بعض میڈیا رپورٹس میں زیر بحث آنے والی تفصیلات حتمی معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی تجاویز میں ایران کی یورینیم افزودگی کو محدود سطح تک رکھنے اور بعض حساس مواد کی ترسیل سے متعلق نکات شامل تھے، لیکن ان کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
