بنگلہ دیش نے مالیاتی شعبے میں بڑھتے ہوئے بحران، بدانتظامی اور بڑے قرض اسکینڈلز کے باعث 5 غیر بینک مالیاتی اداروں کو بند یا لیکویڈیٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ادارے کئی برسوں سے شدید مالی خسارے، نادہندہ قرضوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کا شکار تھے، جس کے باعث مالیاتی نظام پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بند کیے جانے والے اداروں میں FAS Finance، Fareast Finance، Aviva Finance، People’s Leasing اور International Leasing شامل ہیں۔ یہ فیصلہ مرکزی بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا۔
حکام کے مطابق ان اداروں کی مالی حالت انتہائی خراب ہوچکی ہے۔ دسمبر 2025 تک فاس فنانس میں نادہندہ قرضوں کی شرح تقریباً 100 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ فری ایسٹ فنانس میں 98.5 فیصد قرضے غیر فعال قرار دیے گئے۔ دیگر ادارے بھی شدید مالی بحران اور سرمائے کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔
مرکزی بینک کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ لیکویڈیشن کا عمل اس وقت شروع کیا جائے گا جب حکومت آئندہ قومی بجٹ میں اس مقصد کے لیے درکار فنڈز مختص کرے گی۔ حکام کے مطابق ان اداروں کی بندش کے لیے ابتدائی طور پر تقریباً 9 ہزار کروڑ ٹکا درکار ہوں گے جبکہ سب سے پہلے چھوٹے کھاتہ داروں اور عام سرمایہ کاروں کو ادائیگیاں کی جائیں گی۔
اعداد و شمار کے مطابق بحران کا شکار ان مالیاتی اداروں میں تقریباً 15 ہزار 370 کروڑ ٹکا کے ذخائر پھنسے ہوئے ہیں، جن کا بڑا حصہ عام شہریوں اور چھوٹے سرمایہ کاروں سے متعلق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے بنگلہ دیش کے غیر بینک مالیاتی شعبے پر عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس بحران کا تعلق ماضی کے بڑے مالی اسکینڈلز اور بعض کاروباری شخصیات سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جن پر مالی بے ضابطگیوں اور قرضوں کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت 35 غیر بینک مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں سے 20 کو پہلے ہی بحران زدہ قرار دیا جا چکا ہے۔
مرکزی بینک کے مطابق غیر بینک مالیاتی شعبے میں نادہندہ قرضوں کا مجموعی حجم 27 ہزار 500 کروڑ ٹکا سے تجاوز کرچکا ہے، جو مجموعی قرضوں کے 35 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اصلاحات اور سخت نگرانی نہ کی گئی تو بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
