امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتحال پر غور کے لیے کل صبح کیمپ ڈیوڈ میں کابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں قومی سلامتی اور دفاعی معاملات سے متعلق اعلیٰ حکام شریک ہوں گے، جبکہ سبکدوش ہونے والی تلسی گبارڈ سمیت تمام کابینہ ارکان کو بھی شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ایران کو افزودہ یورینیم یا تو امریکا کے حوالے کرنا ہوگا تاکہ اسے وہاں تباہ کیا جا سکے، یا پھر بین الاقوامی نگرانی میں کسی متفقہ مقام پر اسے تلف کیا جائے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ممکنہ معاہدہ سابق امریکی انتظامیہ کے ایران معاہدے سے مختلف اور زیادہ مؤثر ہوگا۔ مبصرین کے مطابق کیمپ ڈیوڈ اجلاس میں ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی، ممکنہ سفارتی اقدامات اور سیکیورٹی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع ہیں۔
