چین نے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کی جانب سے “جہاز رانی کی آزادی” کے نام پر اس کی خودمختاری اور سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
یہ بیان جمعہ کو بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ کی جانب سے معمول کی پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا، جس میں انہوں نے آبنائے تائیوان سے کینیڈا کے جنگی جہاز کی گزرگاہ سے متعلق سوال کا جواب دیا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈین بحریہ کا فریگیٹ HMCS شارلٹ ٹاؤن گزشتہ ہفتے آبنائے تائیوان سے گزرا، تاہم اس دوران وہ کسی اتحادی ملک کے جنگی جہاز کے ہمراہ نہیں تھا۔ اس پیش رفت کو خطے میں حساس جغرافیائی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان ماؤ نِنگ نے کہا کہ چین بین الاقوامی قانون کے تحت تمام ممالک کے بحری جہاز رانی کے حقوق کا احترام کرتا ہے، تاہم کسی بھی ملک کو اس اصول کو چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
چین اور مغربی ممالک کے درمیان آبنائے تائیوان میں فوجی سرگرمیوں اور بحری گزرگاہوں کے حوالے سے کشیدگی طویل عرصے سے جاری ہے، جبکہ اس طرح کے واقعات اکثر سفارتی ردعمل کا باعث بنتے ہیں۔
