ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmail Baghaei نے کہا ہے کہ اس وقت ایران کی بنیادی توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، جبکہ ایرانی جوہری پروگرام پر کسی قسم کے مذاکرات نہیں کیے جا رہے۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے اپنے بیان میں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور اس سے متعلق فیصلے ایران اور Oman باہمی مشاورت سے کریں گے۔
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ Mohammad Bagher Ghalibaf نے امریکی ضمانتوں اور بیانات کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران صرف عملی اقدامات کو اہمیت دیتا ہے۔
اپنے بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ “ہم وعدوں اور گارنٹیوں پر یقین نہیں رکھتے، ہمارے لیے صرف عملی اقدامات ہی اصل معیار ہیں۔ مخالف فریق کی جانب سے عملی پیش رفت سے پہلے ایران کوئی اقدام نہیں کرے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران مراعات “گفتگو سے نہیں بلکہ میزائلوں سے حاصل کرتا ہے”، جبکہ مذاکرات کا مقصد صرف مؤقف اور حقائق سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر Donald Trump نے حالیہ دنوں آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق کئی دعوے کیے تھے، تاہم ایرانی قیادت نے امریکی مؤقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
