امریکی نشریاتی ادارے بلومبرگ نے دعویٰ کیا ہے کہ Kuwait میں واقع امریکی فوجی اڈے پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملے کے نتیجے میں چند امریکی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دو جدید ڈرون طیاروں کو نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ Ali Al Salem Air Base میں پیش آیا، جہاں ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کویت کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے فاتح-110 میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا تھا، تاہم اس کا ملبہ فوجی اڈے کے اندر جا گرا۔
ذرائع کے مطابق ملبہ گرنے سے تقریباً پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے، جن میں امریکی فوجی اہلکار اور نجی کنٹریکٹرز شامل تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اڈے پر موجود دو MQ-9 Reaper ڈرون طیارے متاثر ہوئے، جن میں سے ایک مکمل طور پر تباہ جبکہ دوسرا شدید نقصان کا شکار ہوا۔
بلومبرگ کے مطابق ایک MQ-9 ریپر ڈرون کی مالیت تقریباً 30 ملین امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، جس کے باعث اس نقصان کو عسکری اعتبار سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب Islamic Revolutionary Guard Corps کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان Ebrahim Zolfaghari نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ کویت میں امریکی فوجی تنصیب پر کیے گئے حملے میں پانچ امریکی اہلکار زخمی ہوئے اور ایک MQ-9 ریپر ڈرون تباہ ہوا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی مبینہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے ردعمل میں کی گئی۔
تاہم امریکی فوج کی مرکزی کمان United States Central Command نے واقعے پر فوری تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، جس کے باعث زخمیوں اور نقصانات کی تفصیلات آزاد ذرائع سے مکمل طور پر تصدیق نہیں ہو سکیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری عارضی جنگ بندی میں توسیع کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ کشیدگی خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
