اقوامِ متحدہ میں بھارت کی سرحد پار سرگرمیوں پر رپورٹ پیش، بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ

سلامتی کونسل نے طالبان پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مینڈیٹ میں ایک سال کی توسیع کر دی

جنیوا: United Nations Human Rights Council کے 61ویں اجلاس کے دوران بھارت کی سرحد پار سرگرمیوں اور سکھ کارکنوں کے خلاف کارروائیوں سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں بین الاقوامی سطح پر تحقیقات اور احتساب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق رپورٹ Baku Initiative Group اور Sikh Federation International کی جانب سے جاری کی گئی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارتی سرگرمیاں صرف کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ تک محدود نہیں بلکہ جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک تک بھی پھیل چکی ہیں۔

رپورٹ میں Hardeep Singh Nijjar کے قتل، Gurpatwant Singh Pannun کے خلاف مبینہ سازش اور Avtar Singh Khanda کی مشتبہ موت کو نمایاں مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ دستاویز میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ مختلف مغربی ممالک میں سکھ کارکنوں کو دھمکیوں اور سکیورٹی انتباہات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام خالصتان نواز رہنماؤں کے اہلِ خانہ کو بھارت میں ہراساں کرنے میں ملوث رہے ہیں، جبکہ بعض United Nations خصوصی نمائندوں نے بھی مبینہ طور پر بھارتی حکام کے کردار اور پنجاب میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز ماحول پر تشویش ظاہر کی ہے۔

دستاویز میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ بھارتی خفیہ اداروں نے جرمنی میں سکھ، کشمیری اور تامل برادریوں کی نگرانی کے لیے منظم نیٹ ورکس قائم کیے اور بیرونِ ملک سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے نگرانی، دباؤ اور خفیہ آپریشنز کا سہارا لیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمن عدالتیں بھارتی خفیہ اداروں سے منسلک بعض افراد کو سزائیں سنا چکی ہیں اور جرمن حکام نے مبینہ خفیہ سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی کی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سابق خصوصی نمائندے Fernand de Varennes کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت عالمی سطح پر عدم استحکام اور تشدد کے ممکنہ ذرائع میں شامل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ان الزامات کی آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے