ٹرمپ سے اختلافات کے باوجود تعلقات مضبوط ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو

نیتن یاہو کی ایران مذاکرات میں مطالبات کی تفصیلات، جوہری اور بیلسٹک پروگرام پر پابندیوں کا عندیہ

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آنے والی اختلافات کی خبروں کو زیادہ اہمیت دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور اہم معاملات پر مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے CNBC کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو نے اس تاثر کی نفی نہیں کی کہ ان کی ٹرمپ کے ساتھ گفتگو میں بعض نکات پر اختلاف رائے سامنے آیا تھا، تاہم انہوں نے اسے معمول کی بات قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اور ٹرمپ کی نجی گفتگو کی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لانا چاہتے کیونکہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مسلسل رابطہ رہتا ہے۔ ان کے بقول اگر کوئی ان اختلافات کو بحران قرار دیتا ہے تو وہ اصل صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ مفادات اور اہداف ہیں، خصوصاً ایران کے معاملے پر دونوں ممالک کا مؤقف قریب تر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو اسرائیل، خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بننے سے روکنا دونوں رہنماؤں کی مشترکہ ترجیح ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ بہترین خاندانوں میں بھی بعض اوقات حکمت عملی کے حوالے سے اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان اختلافات کو کیسے حل کیا جائے۔ ان کے مطابق وہ اور ٹرمپ ہمیشہ باہمی مشاورت کے ذریعے مسائل کا حل نکال لیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں رہنما ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور اختلاف رائے کے باوجود تعلقات میں کوئی کشیدگی نہیں آتی۔ ان کے بقول صبح کسی معاملے پر مختلف رائے ہو سکتی ہے لیکن دن کے اختتام تک دونوں فریق مشترکہ اقدامات پر متفق ہو جاتے ہیں۔

اس موقع پر نیتن یاہو سے ان اطلاعات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے انہیں کہا تھا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو نیتن یاہو جیل میں ہوتے۔ اس پر اسرائیلی وزیراعظم نے تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ان کے خلاف جاری قانونی مقدمات کو بے بنیاد اور سیاسی نوعیت کا قرار دیتے رہے ہیں۔

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے متعدد مواقع پر ان مقدمات کے خلاف کھل کر بات کی ہے اور وہ ان الزامات کو غیر منصفانہ سمجھتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے