دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ دو ہفتے میں سفارتی سطح پر بہت مصروفیات رہیں، وزیراعظم نے چین کا کامیاب دورہ کیا، پاکستان اور چین مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے دورہ چین کے بعد امریکا کا دورہ کیا، امریکی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں نائب وزیراعظم نے امن کے قیام کیلئے کوششوں پر گفتگو کی، مارکو روبیو نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی، مشرقی القدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی، اسرائیل سے فوری طور پر غیر قانونی اقدامات روکنے کا مطالبہ کیا گیا، ترجمان نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا، بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا ہے، وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک شامل تھے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
