وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہاہے کہ مذاکرات میں وفاقی حکومت اورآزادکشمیر حکومت شامل تھی، ماضی میں بھی مسائل مذاکرات سے طے ہوتے رہے، بہت ساری ایسی چیزیں تھیں جو حل ہو چکی تھیں، کالعدم ایکشن کمیٹی قبلہ درست کرے تو پابندی ہٹ سکتی ہے اور بات چیت ہو سکتی ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں پر کمیٹی مذاکرات کر رہی تھی، اس کمیٹی کی کچھ میٹنگز تاخیر کا شکار ہوئیں، 30تاریخ کوآخری میٹنگ ہوئی جس میں ہم نے ان سے کچھ وقت مانگا تھا، ان کی طرف سے کہا گیا کوئی وقت نہیں ملےگا، ان کی طرف سے کہا گیا وہ مذاکرات نہیں کریں اور لانگ مارچ سے نہیں رکیں گے، سیاحوں کو کہا گیا کہ آزاد کشمیر چھوڑ کر چلے جائیں، ایک ماہ تک راشن اکٹھا کرنے کا کہا گیا تھا،راستے بند ہونے کا کہا گیاتھا، مختلف اےآئی ویڈیوز بنا کر شیئر کی گئیں تھیں، ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے پابندی لگانا پڑی ۔
انہوں نے کہا کہ ان کی طرف سے کہا گیاوہ مذاکرات نہیں کریں گے، حکومت پوری کوشش کرے گی کہ مذاکرات کا راستہ نکلے، بہت ساری چیزوں کے مشاہدے کے بعد پابندی لگانے کا فیصلہ ہوتا ہے، موجودہ صورتحال سے بچنے کے لیے یہ اقدام اٹھاناپڑا، وہ لوگ ہمارے اپنے ہیں مگر ریاست ایسے حالات کی متحمل نہیں ہو سکتی، 3بار جو کچھ ہوا اور جیسے حالات بن رہے ہیں ہم متحمل نہیں ہو سکتے، سیٹوں کا مسئلہ دیگر جماعتوں سے بھی جڑا ہوا ہے، ن لیگ کا موقف تھایہ سیٹیں رہیں،
ان کا کہناتھا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی قبلہ درست کرے تو پابندی ہٹ سکتی ہےاور بات چیت ہو سکتی ہے، عدالت سے جو بھی فیصلہ آئے گااس کےحساب سے چیزوں کو دیکھا جائے گا،عدالتی فیصلے کے بعد کافی چیزوں میں وضاحت بھی آجائے گی، جتنے بھی معاملات طے ہوئے تھے زیادہ ترحل ہو چکے ہیں، ان مسائل کے حل میں تاخیر بھی نہیں ہوئی، مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر کمیٹی بنائی گئی تھی، ہماری طرف سے کوئی چیزبھی نہیں رکی۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ہم نے کابینہ مختصر کر دی،محکموں کو ضم کیا،ہیلتھ کارڈ کا اجرا کیا ، تعلیمی بورڈ بن گئے،پراپرٹی ٹیکس کم کر دیاگیا،شیڈول بینک کے لیے پیسے دیے، جو بجٹ وفاق نے دینا تھا انہوں نے کہا ہے جو چیزیں حصہ ہوں گی سامنےآئیں گی، ہمارےآخری مذاکرات 30تاریخ کو ہوئے، یہ موقع آگیا تھا کہ نشستوں کے حوالے سے بھی بات چیت ہونی تھی، ہمارا موقف تھا کہ ان نشستوں کو ختم کیا جانا چاہیے، ہمارے لیے سب سے اہم ریاست کا استحکام ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی پی الیکشن آگے بڑھانے کے لیے تیار تھی ہم نے ان سےیہ بات کر بھی دی تھی، کہا تھا جو تاخیر ہوئی ہم ازالہ کریں گے اور الیکشن شیڈول کو 10دن آگے کر دیں گے، ہم چاہتے تھے کہ الیکشن سے قبل نشستوں والا معاملہ ایسے حل کریں کہ جس پر اتفاق رائے ہو، ہماری جماعت متفق تھی کہ یہ سیٹیں پروپوشن نمائندگی سے اسمبلی میں آناچاہیے، لیکن یہ کام کسی اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا، ن لیگ کا انٹرسٹ تھا کہ یہ سیٹیں رہیں ان کی جماعت کو سپورٹ تھی ، ریاست میں کوئی بھی فیصلہ جبر،زورکی بنیاد پر نہیں ہوتا۔
