بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب واقع جنتر منتر پر ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے زیر اہتمام ہونے والے پہلے بڑے زمینی احتجاج میں ہزاروں نوجوانوں، طلبہ، سماجی کارکنوں، دانشوروں اور بائیں بازو کی مختلف تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ملک میں تعلیمی نظام، امتحانی بے ضابطگیوں اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بھارتی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے آغاز میں دہلی پولیس نے تقریباً 300 مظاہرین کو حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں شرکاء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ پولیس نے علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور بیریکیڈز قائم کر رکھے تھے۔
مظاہرے کے شرکاء میں نوجوانوں کے ساتھ مختلف عمر کے افراد، پروفیسرز، لکھاری، موسیقار، پیشہ ور افراد اور طلبہ تنظیموں کے کارکن بھی شامل تھے۔ متعدد مظاہرین نے چہروں پر کاکروچ کے ماسک پہن رکھے تھے جبکہ کچھ افراد کتابیں اور بھارتی پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔
احتجاج میں بھارت کی مختلف کمیونسٹ اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔ خاص طور پر Students Federation of India کی قیادت نے مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ حالیہ امتحانی اسکینڈلز، بالخصوص NEET اور دیگر امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور وزیر تعلیم استعفیٰ دیں۔
یہ احتجاج ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نامی سوشل میڈیا تحریک کی جانب سے منعقد کیا گیا، جس کے بانی Abhijeet Dipke خصوصی طور پر بیرون ملک سے نئی دہلی پہنچے۔ اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک عدالتی ریمارک کے بعد نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں خود کو ’’کاکروچ‘‘ قرار دیتے ہوئے احتجاجی مہم شروع کی، جو بعد میں ایک وسیع عوامی تحریک میں تبدیل ہوگئی۔
