امریکا سے واپس بھیجے جانے والے صومالی ریفری کا وطن میں پرتپاک استقبال

صومالیہ کے معروف فٹبال ریفری Omar Abdulkadir Artan کو امریکا سے واپس بھیجے جانے کے بعد اپنے وطن میں ہیرو جیسا استقبال ملا۔ ان کی واپسی پر کھیلوں کے حلقوں اور شائقین نے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔

عمر عبدالقادر ارتان گزشتہ برس Confederation of African Football کی جانب سے سال کے بہترین مرد ریفری کے اعزاز سے نوازے گئے تھے۔ انہیں فیفا ورلڈ کپ کے سلسلے میں امریکا جانا تھا جہاں وہ بطور ریفری اپنی ذمہ داریاں انجام دینے والے تھے۔

رپورٹس کے مطابق وہ امریکا پہنچنے کے بعد Miami International Airport پر امیگریشن حکام کی کارروائی کا سامنا کرتے ہوئے ملک میں داخل نہ ہو سکے اور انہیں واپس صومالیہ بھیج دیا گیا۔

امریکی امیگریشن حکام نے ان کی واپسی کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی۔ تاہم مبصرین اس واقعے کو ان سفری پابندیوں سے جوڑ رہے ہیں جو امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ کی جانب سے بعض ممالک کے شہریوں پر عائد کی گئی تھیں۔ صومالیہ بھی ان ممالک میں شامل رہا ہے جن پر مختلف ادوار میں سفری پابندیاں یا سخت امیگریشن شرائط نافذ کی گئی تھیں۔

دوسری جانب صومالیہ میں عمر عبدالقادر ارتان کی واپسی کو قومی فخر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کھیلوں کے شائقین اور مقامی حکام نے ان کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ افریقی اور صومالی فٹبال کے لیے ایک نمایاں نمائندہ حیثیت رکھتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے