ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے دحیہ میں اسرائیلی حملوں پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ یا تو اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کر سکتا یا پھر ایسا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
ایران کے سینئر مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیبات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ دحیہ میں اسرائیلی حملوں نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن اپنے وعدوں کو عملی شکل دینے میں ناکام ہے۔
انہوں نے کہا کہ "حکومت کو گرین سگنل دے کر مراعات حاصل کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ اچھے اور برے پولیس والے کا کھیل اب پرانا ہو چکا ہے۔”
غالباف کے مطابق اگر امریکہ میں اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی نہ خواہش ہے اور نہ صلاحیت، تو پھر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی بات بے معنی ہو جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں حزب اللہ اور لبنان کی سلامتی سے متعلق ضمانتیں شامل ہوں، تاکہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو محدود کیا جا سکے۔ تاہم اسرائیلی قیادت اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی کے فیصلے خود کرے گی۔
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء آپریشنل ہیڈکواعفر اسدی رٹر کے نائب سربراہ محمد ج نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں خبردار کیا کہ دحیہ پر ہونے والے حملے "بغیر جواب کے نہیں رہیں گے”۔
