ایرانی قیادت کی یقین دہانی کے بعد مفاہمتی یادداشت کی اجازت دی، مجتبیٰ خامنہ ای

War criminals' threats and cries of destruction reveal their desperation, says Iranian Supreme Leader Mojtaba Khamenei

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں ان کا ابتدائی نقطۂ نظر مختلف تھا، تاہم صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے متفقہ مؤقف کے بعد انہوں نے اس کی منظوری دی۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے بعض تحفظات رکھتے تھے، لیکن صدر پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ ایرانی قوم کے حقوق، ملکی مفادات اور مزاحمتی محاذ کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ انہی یقین دہانیوں کے بعد انہوں نے معاہدے پر دستخط کی اجازت دی اور قومی قیادت کو اس عمل کو آگے بڑھانے کی منظوری دی۔

ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ مستقبل میں امریکا کے ساتھ مختلف معاملات پر انفرادی یا تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رہ سکتے ہیں، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ایران دشمن کے مؤقف کو قبول کر رہا ہے یا اپنے بنیادی اصولوں سے دستبردار ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فریق غیر معمولی یا حد سے زیادہ مطالبات پیش کرنے کی کوشش کرے گا تو ایران انہیں ہرگز تسلیم نہیں کرے گا اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل اور دیگر متعلقہ حکام نے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ وہ ایرانی عوام کے حقوق اور خطے میں مزاحمتی قوتوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنائیں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے