امریکی اور قطری ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی، قطری اور ایرانی رابطوں کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی طے پائی، جو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے نافذ العمل ہوئی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی جنگ بندی کی منظوری دے دی۔
حزب اللہ کے دو عہدیداروں نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کو اطلاع ملتے ہی اس پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم العربیہ اور الحدث کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی النبطیہ الفوقا، عدشیت، کفرصیر، الریحان اور کفرمان سمیت کئی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے۔
ایک اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل فی الحال خود کو جنگ کی حالت میں نہیں سمجھتا، بشرطیکہ حزب اللہ کی جانب سے مزید حملے نہ ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف کارروائی کی آزادی محفوظ رکھے گی۔
امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن لبنان کے محاذ پر کشیدگی کم کر کے ایران کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو دوبارہ فعال کرنا چاہتا ہے۔ ایک امریکی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اسرائیل کی جانب سے حملے روکنے پر آمادگی کا پیغام تہران تک پہنچا دیا گیا ہے۔
