پاکستان نے فیفا ورلڈ کپ 2034 سے منسلک ترقیاتی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے تین سے چار لاکھ تربیت یافتہ کارکن بیرونِ ملک بھیجنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ یہ منصوبہ حکومت کی اس وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد عالمی لیبر مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی کو مزید مضبوط بنانا، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور ترسیلات زر میں اضافہ کرنا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت نے افرادی قوت کی منصوبہ بندی کو ان متوقع ضروریات کے مطابق ترتیب دینا شروع کر دیا ہے جو سعودی عرب میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ 2034 کے باعث سامنے آئیں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2026 سے 2034 تک تعمیرات، انفراسٹرکچر، ہوابازی، سیاحت، ہوٹلنگ اور دیگر خدمات کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر افرادی قوت کی ضرورت پیش آئے گی، جس میں پاکستانی ہنرمند کارکن اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حکومتی پالیسی کے تحت بیرونِ ملک روزگار کے لیے پاکستانی کارکنوں کی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا رہا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران جولائی سے مارچ تک دو لاکھ پندرہ ہزار سات سو انیس افراد کو سافٹ اسکلز کی تربیت فراہم کی گئی تاکہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی کارکردگی، موافقت اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بنا سکیں۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بیرونِ ملک روزگار پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بن چکا ہے۔ صرف 2025 کے دوران بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ذریعے سات لاکھ باسٹھ ہزار چار سو ننانوے پاکستانی شہری بیرونِ ملک ملازمتوں کے لیے رجسٹر ہوئے، جبکہ 1972 سے اب تک ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد پاکستانی پچاس سے زیادہ ممالک میں سرکاری ذرائع کے ذریعے روزگار حاصل کر چکے ہیں۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونِ ملک جانے والے پاکستانیوں کی اکثریت خلیجی ممالک میں روزگار اختیار کرتی ہے۔ سعودی عرب بدستور پاکستانی افرادی قوت کے لیے سب سے بڑی منزل ہے، جہاں صرف 2025 کے دوران پانچ لاکھ تیس ہزار دو سو چھپن کارکن گئے، جو مجموعی رجسٹریشن کا تقریباً ستر فیصد بنتا ہے۔ سعودی عرب کے وژن 2030 اور مستقبل کے عالمی ایونٹس، خصوصاً فیفا ورلڈ کپ 2034 کے باعث تعمیرات، انفراسٹرکچر اور خدمات کے شعبوں میں مزید افرادی قوت کی ضرورت متوقع ہے۔
پاکستان خلیجی ممالک کے علاوہ یورپی ممالک کے ساتھ بھی لیبر تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان مائیگریشن اینڈ موبیلیٹی ڈائیلاگ کے تحت قانونی ہجرت اور ہنرمند کارکنوں کی فراہمی کے شعبوں میں تعاون جاری ہے۔ اٹلی نے آئندہ تین برسوں کے دوران پاکستان کے لیے دس ہزار پانچ سو موسمی اور غیر موسمی کارکنوں کا کوٹہ مختص کیا ہے، جبکہ جرمنی اور یونان کے ساتھ بھی ہنرمند افرادی قوت کے تبادلے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
