پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری ایران اور امریکا کے چار فریقی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے دھمکی آمیز بیانات کے بعد ایرانی وفد نے مذاکراتی میز پر واپس آنے سے انکار کر دیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق اس دوران پاکستان اور قطر نے فریقین کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور مذاکرات کو بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھیں، تاہم ابھی تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بعض شقوں پر عمل درآمد میں تاخیر پر شدید احتجاج کیا اور امریکا سے اپنے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق تہران نے ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور ایرانی تیل کی برآمدات سے متعلق سرٹیفکیٹس کے اجرا کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا۔
ایرانی وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ جوہری پروگرام سے متعلق باضابطہ مذاکرات کا آغاز اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مفاہمتی یادداشت کی بعض اہم شقوں، خصوصاً پیراگراف 1، 4، 10 اور 11 کے تحت امریکی وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔
دوسری جانب جنیوا میں المیادین نیٹ ورک کے نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے مذاکرات میں واپسی کے لیے دو شرائط رکھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حالیہ بیانات پر معذرت کریں اور اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنی افواج واپس بلائے، جس کے بعد ہی ایرانی وفد مذاکراتی عمل میں دوبارہ شامل ہوگا۔
المیادین کے مطابق ایران اب صرف لبنان میں جنگ بندی نہیں بلکہ جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کو بھی ضروری قرار دے رہا ہے۔
سرکاری سطح پر مذاکرات کے خاتمے یا ایرانی وفد کی واپسی کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ایرانی سرکاری ٹی وی کے نمائندے نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی وفد وطن واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔
تاہم حتمی صورتحال جاننے کے لیے ایرانی مذاکراتی ٹیم کے باضابطہ بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
