قطری وزیراعظم Mohammed bin Abdulrahman Al Thani نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ اور مذاکراتی عمل کا آغاز ہے، جبکہ اس معاہدے کے ذریعے جنگ بندی کے مرحلے تک پہنچنا ممکن ہوا۔
دوحہ میں ایک عرب ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں قطری وزیراعظم، جو ملک کے وزیر خارجہ بھی ہیں، نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت میں صرف سیاسی نکات ہی شامل نہیں بلکہ متعدد تکنیکی عناصر بھی موجود ہیں، جن میں جوہری معاملات، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز جیسے اہم مسائل شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تعاون سے مذاکراتی عمل کے تحفظ اور اس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر فریم ورک قائم کیا گیا، جس نے فریقین کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے لبنان کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے امریکا ایک مناسب کردار ادا کر رہا ہے، تاہم لبنانی سرزمین پر اسرائیلی قبضہ ختم ہونا چاہیے اور لبنان کی خودمختاری کا مکمل احترام کیا جانا ضروری ہے۔
قطری وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کے فروغ میں اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کا کردار تشویش کا باعث رہا ہے اور لبنان یا دیگر علاقوں میں پیدا ہونے والی کشیدگی مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی بعض کارروائیاں قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے ناقابل قبول تھیں، تاہم مسائل کے حل کے لیے تہران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور مشترکہ وژن کے حصول کے لیے خلیجی ممالک میں اتفاق رائے موجود ہے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے زور دیا کہ ایران کو خلیجی ممالک کے ساتھ زیادہ اعتماد، شفافیت اور اعلیٰ سطح کے تعاون کو فروغ دینا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
