ایران نے حالیہ امریکی فوجی حملوں اور امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے کا مؤقف اختیار کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں شرکت منسوخ کر دی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر برائے تحفظ و اشاعت سے وابستہ رکن مہدی فضائلی نے بتایا کہ آج کے لیے طے شدہ تکنیکی مذاکرات میں ایرانی وفد نے شرکت نہیں کی۔ ان کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجوہات میں حالیہ امریکی حملے اور مفاہمتی یادداشت کی بعض اہم شقوں پر پیش رفت نہ ہونا شامل ہے۔
مہدی فضائلی نے کہا کہ ایران معاہدے پر عملی پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے اور یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ طے شدہ شرائط پر کس حد تک عمل کیا گیا ہے۔ ان کے بقول، ایران کے منجمد مالی وسائل تک رسائی ایک بنیادی شرط تھی، تاہم اگر ان فنڈز تک رسائی ممکن نہیں بنائی گئی تو اس کا مطلب ہوگا کہ معاہدے کی اہم شرائط ابھی تک پوری نہیں ہوئیں۔
ایرانی حکام کے مطابق، موجودہ صورتحال میں مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے معاہدے میں شامل عملی وعدوں پر پیش رفت دکھائی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یکطرفہ فوجی کارروائیاں اور معاہدے کی شرائط پر عدم عمل درآمد اعتماد سازی کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔
