پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں مہنگا کیوں ؟ وزارت پیٹرولیم اور اوگرا کی دستاویز میں حقائق سامنے آگئے۔
دستاویز کے مطابق ناکارہ آئل ریفائنریز کے باعث حکومت سستے خام تیل کے بجائے مہنگا پیٹرول اور ڈیزل درآمد کر نے پر مجبور ہے۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے مقابلے میں پیٹرول 32 ڈالر 13 سینٹ اور ڈیزل 43 ڈالر 6 سینٹ فی بیرل مہنگا پڑتا ہے ۔ پیٹرول ڈیزل پر بھاری ٹیکس قیمتوں کو پر لگا دیتے ہیں۔
دستاویز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل 70ڈالر فی بیرل، پیٹرول 102 ڈالر 3 سینٹ فی بیرل ہے ۔ یوں پیٹرول کی اصل فی لیٹر قیمت 158روپے 23 پیسے بنتی ہے۔ لیوی ، ڈیوٹیز ، ٹیکسز اور پریمیم کی مد میں 138 روپے39 پیسے فی لیٹر قیمت میں شامل ہیں۔ پیٹرول پر ٹیکس مجموعی قیمت کا 47 فیصد ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت 108ڈالر50سینٹ فی بیرل، 5ڈالر 10سینٹ پریمیم شامل کرکے113ڈالر60سینٹ ہو جاتی ہے۔ اس طرح ڈیزل کی اصل قیمت 189 روپے 70پیسے ہے ۔ اس پر 9روپے فی لیٹر پریمیم کےعلاوہ 119روپے 56 پیسے لیوی اور ٹیکسز بھی عائد ہیں، جو ڈیزل کی مجموعی قیمت کا تقریبا 39 فیصد ہیں ۔ پاکستان 70فیصد پیٹرول اور 30فیصد ڈیزل عالمی منڈی سے درآمد کرتا ہے۔
