احمد آباد: بھارت کی ریاست احمد آباد میں ہائی کورٹ کے متعصب جج نے مسلمانوں کی دشمنی کی انتہا کرتے ہوئے نام نہاد خصوصی عدالت کی جانب سے 38 مسلمانوں کو دی گئی متنازعہ سزائے موت اور 11 مسلمانوں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا متنازعہ فیصلہ صادر کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس اے وائی کوگجے اور جسٹس سمیر دوے شامل تھے، نے خصوصی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے خلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مسلم دشمنی کی نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے 2008 کے احمد آباد بم دھماکوں کے مقدمے میں 38 ملزمان کی سزائے موت اور 11 ملزمان کی عمر قید برقرار رکھی گئی، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔ عدالت نے ہلاک ہونے والے افراد کے ورثا کو فی کس 10 لاکھ بھارتی روپے اور زخمیوں کو ایک لاکھ بھارتی روپے معاوضہ دینے کی ہدایت کی۔
26 جولائی 2008 کو احمد آباد اور گجرات کے دیگر علاقوں میں یکے بعد دیگرے ہونے والے بم دھماکوں میں 56 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
تحقیقات کے بعد متعدد افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے۔ خصوصی عدالت نے فروری 2022 میں 49 افراد کو مختلف الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 38 کو سزائے موت، 11 کو عمر قید جبکہ 28 دیگر ملزمان کو شواہد ناکافی ہونے پر بری کر دیا تھا۔
استغاثہ کا مؤقف تھا کہ حملوں کا مقصد 2002 کے گجرات فسادات کے بعد انتقامی کارروائی اور ملک میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔
ملزمان کی قانونی معاونت کرنے والی تنظیم جمعیت علمائے مہاراشٹر نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو بھارت کی سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔
تنظیم کے مطابق اس نے جمعیت علمائے احمد آباد کے تعاون سے 39 ملزمان کو قانونی معاونت فراہم کی تھی۔
تنظیم کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف کی امید ہے اور آئندہ مرحلے میں ملک کے ممتاز فوجداری وکلا کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔
انہوں نے ماضی کے بعض مقدمات، بشمول اکشردھام مندر حملہ کیس، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اس سے قبل بھی نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔
