ذرائع کے مطابق اس منصوبے کے تحت کینسر، دماغی امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تیز، مؤثر اور زیادہ درست تشخیص ممکن بنائی جائے گی، جس سے تقریباً 20 کروڑ پاکستانیوں کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔
1100 سرکاری و نجی ہسپتالوں میں اے آئی نظام نافذ کیا جائے گا، علی بابا گروپ اور صحت کارڈ پروگرام کے درمیان آئندہ ماہ معاہدہ متوقع ہے ۔
مصنوعی ذہانت کے ذریعے تشخیصی اخراجات میں اربوں روپے کی بچت متوقع ہے،اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، جی بی اور آزاد کشمیر میں منصوبہ نافذ ہوگا۔
وزیراعظم نے علی بابا گروپ کے سربراہ کو پاکستان آنے کی دعوت دے دی، وزیراعظم صحت کارڈ پر وفاق سالانہ 10 ارب، پنجاب 60 ، بلوچستان 10 ارب روپے خرچ کرتا ہے۔
خیبرپختونخوا صحت سہولت کارڈ پر سالانہ 40 ارب روپے سے زائد خرچ کر رہا ہے۔
