اسرائیلی فوج کے جزوی انخلا اور لبنانی فوج کی تعیناتی کے بعد جنوبی لبنان کے قصبے زوطر الغربیہ کے مکین کئی ماہ بعد اپنے گھروں کو لوٹنا شروع ہوگئے، جہاں انہیں تباہ شدہ مکانات، ملبے سے بھری سڑکیں اور جنگ کے گہرے نشانات کا سامنا کرنا پڑا۔
قصبے کے میئر عابد عزالدین کے مطابق زوطر الغربیہ کا نصف سے زیادہ حصہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جبکہ باقی رہ جانے والی متعدد عمارتیں بھی شدید نقصان کا شکار ہیں، جس کے باعث شہریوں کی واپسی فی الحال محدود اور عارضی نوعیت کی ہے۔
رہائشی ملبے میں اپنے گھروں اور سامان کی تلاش کرتے رہے۔ مقامی شہری محمد درویش نے کہا کہ وہ تقریباً پانچ ماہ سے اس لمحے کا انتظار کر رہے تھے اور اب وہ اپنے گھروں کی حالت دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں انہیں مستقل طور پر واپس رہنے کی اجازت ملے گی۔
ایک اور رہائشی ابو علی عزالدین نے بتایا کہ ان کا گھر اور ان کے بچوں کے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود وہ اپنے آبائی قصبے میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ان کا ذریعہ معاش اسی علاقے سے وابستہ ہے۔
لبنانی فوج نے امریکی ثالثی میں طے پانے والے منصوبے کے تحت منگل کو زوطر الغربیہ میں اپنی تعیناتی شروع کی، جس کے بعد اسرائیلی فوج نے اس علاقے سے انخلا کیا۔ یہ منصوبہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آیا، جس کے تحت لبنانی فوج مخصوص علاقوں میں تعینات ہوگی جبکہ حزب اللہ کے ہتھیاروں سے متعلق اقدامات اور اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔
اسرائیلی فوج نے زوطر الغربیہ کو اس ابتدائی پائلٹ پروگرام کے تحت شامل تین قصبوں میں شمار کیا ہے جہاں سے انخلا کا عمل شروع کیا گیا۔ تاہم اسرائیلی افواج اب بھی جنوبی لبنان کے تقریباً 10 کلومیٹر کے سرحدی علاقے پر موجود ہیں، جہاں متعدد دیہات شدید تباہی کا شکار ہوئے ہیں۔
