گزشتہ پانچ برس کےدوران آئی پی پیزکو مجموعی طورپر 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیےگئے،جو بجلی کے بھاری بلوں کی وجہ بنے۔
بجلی کےبھاری بلوں کی ایک بڑی وجہ آئی پی پیزکوکی جانےوالی بھاری ادائیگیاں قراردی گئیں ہیں،اعدادو شمارکےمطابق بجلی کےفی یونٹ وصول کی جانےوالی رقم کا تقریباً 70 فیصد حصہ آئی پی پیزکو ادا کیا جاتا ہے،یہی بوجھ صارفین کے مہنگےبجلی بلوں کی بنیادی وجہ بن چکا ہے۔
اعدادوشمارکےمطابق گزشتہ پانچ برس کےدوران آئی پی پیزکو مجموعی طورپر 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیےگئے،جن میں سے 7 ہزار 275 ارب روپے نجی بجلی گھروں کوبجلی کی پیداوارکی مد میں دیےگئے، تاہم صارفین سےوصول کی گئی بھاری رقم کاایک حصہ ایسےآئی پی پیز کو بھی ادا کیا گیاجنہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔
رپورٹ کےمطابق بجلی کی پیداواری لاگت میں مسلسل کمی کےباوجودکپیسٹی پیمنٹس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جس سے بجلی کی قیمتیں بلند رہیں اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔
