صدر مملکت کی منظوری کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں تعینات ہونے والے 10 نئے ایڈیشنل ججز نے حلف اٹھا لیا ۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے نئے تعینات ہونے والے تمام ججز سے حلف لیا جبکہ مستقل ہونے والے جج جسٹس طارق باجوہ نے بھی عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔
حلف لینے والے ججز میں جسٹس فرہاد علی شاہ ،جسٹس امجد پرویز ،جسٹس عثمان غنی راشد، جسٹس اسد باجوہ ، جسٹس خالد بن عزیز، جسٹس شیریں عمران ،جسٹس امیر عجم ملک ، جسٹس غلام سرور نہنگ، جسٹس منور اقبال دوگل، جسٹس اجمل خان زاہد نے حلف اٹھایا۔
حلف برداری کی تقریب میں پراسکیوٹر جنرل پنجاب عرفان صادق تارڑ ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سمیت ججز کی فیملیز نے بھی شرکت کی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر مملکت نے لاہور ہائی کورٹ میں 10 ایڈیشنل ججز کی تعیناتیوں، سندھ ہائی کورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی اور ایک ایڈیشنل جج کی توسیع کی سمری پر دستخط کیئے ۔
علاوہ ازیں صدر مملکت آصف زرداری نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی، پشاور ہائیکورٹ میں 4 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کی سمری اور بلوچستان میں 3 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سمری ، لاہور ہائی کورٹ کے ایک ایڈیشنل جج کی مستقلی کی سمری پر بھی دستخط کردیے۔
صدر مملکت نے سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن کو وفاقی آئینی عدالت کے مساوی کرنے کی سمری ، ہائی کورٹ رخصت، پنشن اور مراعات آرڈر 1997 میں ترمیمی آرڈر پر بھی دستخط کردیے گئے۔
اس کے علاوہ ہارون اختر کی بطور مشیر وزیراعظم برائے صنعت و پیداوار تقرری کی سمری کی بھی منظوری دیدی گئی ہے۔
یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے 20 اور 21 جولائی کے اجلاسوں میں 19 ایڈیشنل ججز کی تعیناتی کی سفارش کی گئی تھی۔ صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے نتیجے میں ججز نامزدگیوں کا معاملہ حل ہونے سے ہائیکورٹ کی کارروائی غیر موثر ہو جائے گی۔
ججز تعیناتیوں کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے آج وفاق اور وزارت قانون سے جواب مانگا تھا۔
