بجلی صارفین پر اگلے 3 ماہ کیلئے 23 ارب روپے کا بوجھ ڈالنے کی تیاری مکمل

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے کپیسٹی پیمنٹ کی مد میں صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد اضافی بوجھ ڈالنے کی درخواست پر نیپرا میں سماعت مکمل ہوگئی۔ صارفین نے اضافے نہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ اتھارٹی ڈیٹا کی جانچ پڑتال کے بعد فیصلہ جاری کرے گی۔ 

چیئرمین نیپرا کی سربراہی میں رواں مالی سال کی دوسری سہہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں ایک روپیہ فی یونٹ اضافے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ کمپنیوں کی جانب سے مجموعی طور پر 49 ارب 74 کروڑ روپے مانگے گئے۔

سینٹرل پاور پر چیزیں ایجنسی نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات کیلئے 4 ارب 95 کروڑ مانگے ہیں۔ انڈسٹری صارفین نے بجلی کی قیمت میں مجوزہ اضافہ مؤخر کرنے کی اپیل کر دی۔ کہا جنگ کے دوران بجلی کی قیمتوں میں اضافہ بڑے بوجھ کا سبب بنے گا۔

حکام پاور ڈویژن نے بتایا ملک میں بڑھتی سولرائزیشن کی وجہ سے بجلی کی فروخت متاثر ہورہی ہے۔ ممبر نیپرا انور مقصود نے کہا سولر نہ ہوتا تو اس وقت شدید ترین لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ یہ بات غلط ہے کہ سولر کی وجہ سے بجلی فروخت نہیں ہو رہی۔

نیپرا نے بجلی ایک روپیہ فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست پر عوامی سماعت مکمل کرلی۔ اعداد و شمار کا جائرہ لینے کے بعد درخواست پر فیصلہ جاری کیا جائے گا

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے