امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔ اگر سینیٹ کے تمام 100 ارکان موجود ہوں تو اس کے لیے 67 ووٹ ضروری ہوں گے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 54 نشستیں حاصل کی ہیں۔ تاہم، یہ تعداد صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
اگر ڈیموکریٹک سینیٹرز کے تمام 54 ارکان مواخذے کے مقدمے میں سزا کے حق میں ووٹ دیں، تب بھی انہیں مزید 13 ووٹ درکار ہوں گے۔ یہ حمایت ریپبلکن سینیٹرز یا دیگر ارکان سے حاصل کرنا ہوگی۔
امریکی آئین کے تحت مواخذے کے دو الگ مراحل ہیں۔ پہلے ایوانِ نمائندگان صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری دیتا ہے۔ اس کے لیے سادہ اکثریت کافی ہوتی ہے۔
اس کے بعد معاملہ سینیٹ میں جاتا ہے۔ وہاں صدر کے خلاف مقدمے کی سماعت ہوتی ہے۔ صدر کو قصوروار قرار دینے کے لیے موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ ضروری ہیں۔
لہٰذا، سینیٹ میں سادہ اکثریت حاصل کرنا صدر کی برطرفی کے لیے کافی نہیں۔ مزید یہ کہ مواخذے کی منظوری اور صدر کو عہدے سے ہٹانا الگ آئینی مراحل ہیں۔
امریکی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
اس کامیابی سے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس کو تحقیقات، حکومتی نامزدگیوں اور قانون سازی کے معاملات میں بھی زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔

