امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے عوامی خطاب میں وائٹ ہاؤس کے نئے بال روم کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے انتخابی نتائج کے بجائے تعمیراتی منصوبے اور دیگر تزئین و آرائش پر زیادہ توجہ دی۔
انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے اگلے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس کے زیرِ تعمیر بال روم کا دورہ کرایا۔ اس موقع پر عمارت کے آخری اسٹیل بیم کی تنصیب کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق، ٹرمپ نے 41 منٹ سے زائد وقت تک بال روم اور دیگر تعمیراتی منصوبوں پر گفتگو کی۔ تاہم، خبر رساں ادارے رائٹرز نے اس تقریب کا دورانیہ تقریباً 20 منٹ بتایا ہے۔
ٹرمپ نے بال روم کے ڈیزائن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں خوبصورت چونے کے پتھر کے ستون نصب کیے جائیں گے۔ ان ستونوں کا ڈیزائن کورنتھین طرز کا ہوگا۔
انہوں نے عمارت کے اندر اطالوی سنگِ مرمر اور شاندار فانوس لگانے کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق، بال روم کی چھتیں بھی غیر معمولی بلندی کی حامل ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے عمارت کے نیچے زیرِ زمین سکیورٹی تنصیبات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسے واشنگٹن کا محفوظ ترین مقام قرار دیا۔
ٹرمپ کے مطابق، فوج نے زیرِ زمین تعمیر کے لیے کئی سکیورٹی تقاضے پیش کیے تھے۔ ان کی ٹیم نے ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے لان میں نئے ہیلی پیڈ کا بھی ذکر کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے واشنگٹن میں جاری دیگر تعمیراتی منصوبوں کی تفصیلات بتائیں۔
ان منصوبوں میں گالف کورس کی تزئین و آرائش بھی شامل ہے۔ ٹرمپ نے دارالحکومت میں مزید تعمیراتی اور خوبصورتی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے تعمیراتی کارکنوں کی کارکردگی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بال روم کا منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ تعمیراتی کام بجٹ کے اندر جاری ہے۔
ٹرمپ نے اس پیش رفت کو معجزہ قرار دیا۔ انہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ تعمیراتی کارکنوں کو دیا۔

