امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ خواتین نے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ پہلی بار 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین ایوانِ نمائندگان کی رکن بننے جا رہی ہیں۔
ڈیموکریٹک ویمنز کاکس نے اس کامیابی کو تاریخی پیش رفت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، نومنتخب خواتین 2027ء میں شروع ہونے والی 120ویں کانگریس کا حصہ بنیں گی۔
نیو میکسیکو سے تعلق رکھنے والی رکنِ کانگریس اور ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کی سربراہ ٹریسا لیگر فرنانڈیز نے اس کامیابی پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین نے ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کی ہے۔
ان کے مطابق، خواتین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں اور ریپبلکنز کے ایجنڈے کے اثرات کا سامنا کیا۔ تاہم، حالیہ انتخابات میں انہوں نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح پیغام دیا۔
ڈیموکریٹک ویمنز کاکس کے انتخابی ونگ ’الیکٹ ڈیموکریٹک ویمن‘ نے 100 خواتین کی کامیابی کا ہدف مقرر کیا تھا۔ تنظیم نے انتخابی مہم کے آغاز ہی سے اس مقصد کے لیے کام کیا۔
فلوریڈا سے رکنِ کانگریس اور تنظیم کی بانی رکن لوئس فرینکل نے اسے اہم علامتی کامیابی قرار دیا۔ ان کے مطابق، جماعت کی خواہش اس سے بھی زیادہ خواتین کو کامیاب کرانے کی تھی۔
اس کامیابی کے پیچھے کئی دہائیوں کی سیاسی جدوجہد شامل ہے۔ امیدواروں کی تیاری اور انتخابی فنڈز جمع کرنے کی کوششیں بھی اہم رہیں۔
اس سلسلے میں ایملی لسٹ سمیت مختلف تنظیموں نے کردار ادا کیا۔ ان اداروں نے خواتین امیدواروں کو انتخابی میدان میں آگے بڑھنے میں مدد دی۔
ایملی لسٹ کی صدر جیسیکا میکلر نے کہا کہ خواتین کو مواقع اور وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ کامیاب مہم چلا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، حالیہ نتائج اس بات کا ثبوت ہیں۔
رٹگرز یونیورسٹی کے مرکز برائے خواتین و سیاست کے مطابق، 2027ء میں ایوانِ نمائندگان میں کم از کم 116 خواتین ہوں گی۔ ان میں 100 ڈیموکریٹ اور 16 ریپبلکن خواتین شامل ہیں۔
مرکز کے مطابق، خواتین ایوانِ نمائندگان کی کم از کم 26.7 فیصد نشستوں کی نمائندگی کریں گی۔ تاہم، کئی انتخابی حلقوں کے نتائج ابھی حتمی نہیں ہوئے تھے۔
کچھ خواتین امیدواروں نے اپنی ہی جماعت کے موجودہ ارکان کو شکست دی۔ ان کامیابیوں کو بھی انتخابی نتائج کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافے کے باوجود ایوان میں ان کا حصہ آبادی کے تناسب سے کم ہے۔ امریکی آبادی میں خواتین تقریباً نصف ہیں۔
امریکی کانگریس میں خواتین کی نمائندگی کا سفر ایک صدی سے زیادہ پرانا ہے۔ 1916ء میں جینیٹ رینکن پہلی خاتون رکنِ کانگریس منتخب ہوئیں۔ انہوں نے 1917ء میں اپنا عہدہ سنبھالا۔
اس کے بعد خواتین نے سیاسی نمائندگی بڑھانے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ انہوں نے مساوی مواقع اور سیاسی حقوق کے حصول کے لیے بھی آواز اٹھائی۔
حالیہ انتخابات میں 100 سے زائد ڈیموکریٹ خواتین کی کامیابی اسی جدوجہد کا نیا مرحلہ ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس سے مستقبل میں خواتین کی اعلیٰ سیاسی قیادت میں شمولیت بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب، ڈیموکریٹس نے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ انہیں سینیٹ میں 54 نشستیں ملی ہیں۔
تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے یہ تعداد کافی نہیں ہوگی۔ اگر سینیٹ کے تمام 100 ارکان موجود ہوں تو مواخذے کے مقدمے میں سزا کے لیے 67 ووٹ درکار ہوں گے۔
اس صورت میں ڈیموکریٹس کو مزید 13 سینیٹرز کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ صرف سینیٹ میں سادہ اکثریت صدر کی برطرفی کے لیے کافی نہیں۔
امریکی آئین کے تحت مواخذے کے دو الگ مراحل ہیں۔ پہلے ایوانِ نمائندگان مواخذے کی منظوری دیتا ہے۔ اس کے بعد سینیٹ میں مقدمے کی سماعت ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی ٹرمپ کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا سکتی ہے۔ تاہم، صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے آئینی شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔

