امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد پوپ لیو چہاردہم نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست کا بنیادی مقصد اجتماعی بھلائی ہونا چاہیے۔
پوپ لیو نے بدھ کو سینٹ پیٹرز اسکوائر میں ہفتہ وار خطاب کیا۔ انہوں نے سیاسی اور معاشی زندگی میں انسانی بھلائی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کا مقصد مشترکہ مفاد کا تحفظ ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، حکومتی اختیارات پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔
پوپ کے مطابق، سیاسی فیصلوں میں معاشرے کی مجموعی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ سیاسی اختیار کا استعمال کسی ایک فرد یا گروہ کے بجائے تمام لوگوں کی بہتری کے لیے ہونا چاہیے۔
پوپ لیو نے اپنے خطاب میں دوسری ویٹیکن کونسل کی دستاویز ’گاؤڈیم ایٹ اسپیس‘ کا حوالہ دیا۔ اس دستاویز میں سیاسی برادری اور معاشرتی زندگی کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی برادری کا وجود مشترکہ بھلائی کے لیے ہے۔ سیاسی قیادت کو اپنے فیصلوں میں پوری انسانیت کی بہتری کو سامنے رکھنا چاہیے۔
پوپ نے مزید کہا کہ انصاف اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے والی سیاست مستقبل کے لیے امید پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق، سیاسی اور معاشی سرگرمیوں میں انسانی اقدار کو اہمیت دینا امن کے فروغ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کو بھی سیاسی اور معاشرتی شعبوں میں خدمت کرنے والے افراد کی مثال اپنانے کی ترغیب دی۔
پوپ لیو کا یہ خطاب امریکی وسط مدتی انتخابات کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ ان انتخابات میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔
تاہم، پوپ نے اپنے خطاب میں کسی امریکی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت نہیں کی۔ ان کی گفتگو کا مرکزی موضوع سیاسی اختیار، عوامی مفاد اور اجتماعی بھلائی تھا۔
شکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالا تھا۔ ویٹیکن نے 30 اکتوبر کو ان کے ووٹ ڈالنے کی تصدیق کی تھی۔
اس طرح وہ امریکی عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے پہلے معروف پوپ بن گئے۔ انہوں نے ریاست الینوائے میں اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا۔

