فرزانہ نور
مرد اور عورت، معاشرتی زندگی کی دو بنیادی اکائیاں ہیں؛ دریا کے دو کنارے، زندگی کے ہم سفر اور شریکِ حیات۔ محبت، خلوص، اعتماد اور احترام کے رشتوں میں بندھے یہ دونوں انسان جب معاشرتی زندگی کا حصہ بنتے ہیں تو ذمہ داریاں بھی مشترک ہوتی ہیں اور اخلاقی تقاضے بھی۔ مگر ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ ہے کہ جب بات کردار، عزت اور اخلاقیات کی آتی ہے تو نظر عورت پر آ کر ٹھہر جاتی ہے، گویا کردار کی پوری عمارت عورت کے وجود پر کھڑی ہو اور مرد اس کا محض تماشائی!
عورت کی زندگی کا آغاز ہی نصیحتوں، تنبیہ اور احتیاطوں کے ایک طویل سلسلے سے ہوتا ہے۔ بچپن سے جوانی اور والدین کے گھر سے ازدواجی زندگی تک اسے بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ اس کے کردار پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے، قدم پھونک پھونک کر اٹھانے چاہییں اور اس کی ذات سے خاندان کی عزت وابستہ ہے۔ بلاشبہ حیا، شائستگی اور اخلاقی اقدار ہر انسان کی شخصیت کا حسن ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان تقاضوں کا بوجھ صرف عورت کے کندھوں پر کیوں رکھا جاتا ہے؟ مرد کی تربیت میں نگاہ کی پاکیزگی، زبان کی شائستگی اور دوسروں کی عزت و حدود کا احترام اتنی ہی اہمیت کیوں نہیں رکھتا؟ اگر عورت کی عزّت خاندان کی عزّت ہے تو کیا مرد کا کردار اس خاندان کی عزّت کا حصّہ نہیں؟
ہمارے معاشرے کا تضاد یہ بھی ہے کہ عورت کے لباس کو مرد کے رویّے کا جواز بنا دیا جاتا ہے۔ اس کے لباس، حرکات و سکنات اور طرزِ زندگی پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، مگر جب کوئی مرد نامناسب نگاہ ڈالے یا رویّے کا مظاہرہ کرے تو جواب دہ اکثر عورت ہی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مناسب لباس بھی نامناسب رویّوں سے تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اس لیے مسئلے کا حل عورت کے راستے محدود کرنے میں نہیں، بلکہ ہر فرد کی تربیت، ذمہ داری کے احساس اور دوسروں کی حدود کے احترام میں پوشیدہ ہے۔
کردار کوئی ایسی سند نہیں جسے صرف عورت کے نام سے منسلک کر دیا جائے۔ یہ انسان کی نیت، عمل، فیصلوں اور دوسروں کے ساتھ اس کے برتاؤ سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر عورت کی معمولی لغزش اس کی پوری شخصیت پر سوالیہ نشان بنا دی جاتی ہے تو مرد کی بڑی غلطیوں کو بھی اسی اخلاقی پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔ وفاداری، سچائی، پاکیزگی اور ذمہ داری کے تقاضے جنس کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہوتے۔
ہم اکثر عورت کی حفاظت کے نام پر اس کے راستے محدود کر دیتے ہیں۔ احتیاط کی تلقین کرتے کرتے کبھی اس کے خوابوں کی وسعت کم کر دیتے ہیں اور کبھی اس کے اعتماد کو خوف کے حصار میں قید کر دیتے ہیں۔ حالاں کہ حفاظت کا حقیقی مفہوم عورت کی آزادی محدود کرنا نہیں، بلکہ اسے ایسا محفوظ اور باوقار ماحول فراہم کرنا ہے جہاں اس کی عزّت، حدود اور حقوق کا احترام کیا جائے۔
عورت کو اپنی حدود پہچاننے کی تربیت دینا ضروری ہے، مگر مرد کو دوسروں کی حدود کا احترام سکھانا بھی اتنا ہی لازم ہے۔ بیٹیوں کو عزت کے ساتھ جینا سکھانے کے ساتھ بیٹوں کو دوسروں کی عزّت کرنا بھی سکھانا ہوگا۔ انہیں سمجھانا ہوگا کہ مردانگی کسی پر اختیار جتانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے کردار، رویّے اور ذمہ داریوں کو سمجھنے کا نام ہے۔ کسی عورت کی خاموشی رضامندی نہیں، اس کی مسکراہٹ اجازت نہیں اور اس کی موجودگی کسی کو اس کی حدود پامال کرنے کا حق نہیں دیتی۔
ہمیں ایسی نسل کی تربیت کرنی ہے جو کردار کو جنس کی بنیاد پر نہیں، انسان کے عمل کی بنیاد پر پرکھے؛ جو عزّت کو عورت کی ذمہ داری اور مرد کا اختیار نہ سمجھے، بلکہ اسے باہمی احترام کی مشترکہ قدر تسلیم کرے۔
کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم عزّت کے اپنے بنائے ہوئے پیمانوں اور کردار کے دہرے معیار پر نظرِ ثانی کریں؟
یاد رکھیے! کردار نہ مرد ہوتا ہے نہ عورت؛ کردار انسان کے عمل، نیت، اخلاق اور ذمہ داری کا نام ہے۔ جس معاشرے میں کردار کا معیار صرف عورت ہو، وہاں انصاف ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔ حقیقی تہذیب کا آغاز اس دن ہوگا جب عورت اور مرد دونوں اپنے کسی عمل پر یکساں جواب دہ ہوں گے۔

