امریکا میں وسط مدتی انتخابات منگل، 3 نومبر کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول طے ہوگا۔ اس کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے باقی صدارتی دور پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
امریکی شہری ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔ اس کے علاوہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر بھی انتخاب ہوگا۔ تقریباً 21 کروڑ رجسٹرڈ ووٹرز ان انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔
انتخابات سے قبل لاکھوں امریکی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر چکے ہیں۔ یکم نومبر تک دستیاب اعدادوشمار کے مطابق، 5 کروڑ 36 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔
ان میں تقریباً 2 کروڑ 98 لاکھ ووٹرز نے ذاتی طور پر ووٹ دیا۔ جبکہ 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد ووٹ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے۔
اس بار ابتدائی ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم، حتمی ٹرن آؤٹ کا تعین انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
اس وقت ری پبلکن پارٹی کو سینیٹ میں 53 نشستوں کی حمایت حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس کے ساتھ دو آزاد ارکان بھی وابستہ ہیں۔ یوں سینیٹ میں ان کی مجموعی تعداد 47 بنتی ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں بھی ری پبلکن پارٹی کو معمولی برتری حاصل ہے۔ ڈیموکریٹس اگر ایوان میں اکثریت حاصل کرتے ہیں تو وہ انتظامیہ کی نگرانی بڑھا سکتے ہیں۔
اس صورت میں صدر ٹرمپ کی قانون سازی اور بجٹ سے متعلق حکمتِ عملی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم، کسی ایک ایوان میں اکثریت حاصل کرنے سے تمام صدارتی اختیارات ختم نہیں ہوتے۔

