پاکستان کی فائٹر ملیحہ علی نے آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ وہ عالمی مکسڈ مارشل آرٹس مقابلے کے فائنل میں پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔
ملیحہ علی نے سیمی فائنل میں میکسیکو کی اینڈریا گیبریلا گزمین سالازار کو شکست دی۔ گزمین پین امریکن چیمپئن اور ورلڈ چیمپئن شپ کی سلور میڈلسٹ بھی ہیں۔
اس کامیابی کے بعد ملیحہ عالمی ٹائٹل سے صرف ایک قدم دور ہیں۔ ان کی جیت کو پاکستانی خواتین کے مکسڈ مارشل آرٹس کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ملیحہ علی نے فائنل تک پہنچنے کے سفر میں روس کی ویرونیکا ڈروزدووا کو بھی شکست دی۔ ڈروزدووا دو مرتبہ یورپی چیمپئن رہ چکی ہیں۔
ہنزہ، گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ فائٹر نے روسی حریف کو اسپلٹ فیصلے کے ذریعے ہرایا تھا۔ یہ مقابلہ فیدر ویٹ کی 65.8 کلوگرام کیٹیگری میں ہوا۔
ملیحہ نے مقابلے کے پہلے دو راؤنڈز میں برتری حاصل کی۔ تاہم، روسی فائٹر نے آخری راؤنڈ میں واپسی کی کوشش کی۔ اس کے باوجود ججز نے کامیابی ملیحہ کے نام کر دی۔
ملیحہ علی ووشو چیمپئن بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ قومی سطح پر کک باکسنگ میں گولڈ میڈل جیت چکی ہیں۔
انہوں نے رواں سال انگولا میں منعقدہ آئی ایم ایم اے ایف ورلڈ کپ میں سلور میڈل حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد وہ عالمی چیمپئن شپ میں شرکت کے لیے جارجیا پہنچیں۔
اب ملیحہ فائنل میں کامیابی حاصل کرکے عالمی ٹائٹل جیتنے کی کوشش کریں گی۔ ان کی یہ پیش رفت پاکستانی خواتین کے کھیلوں میں ایک نئی مثال قائم کر رہی ہے۔

