سعودی عرب نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یمن کے حوثیوں نے جنگ بندی کے بدلے 51 ارب ڈالر طلب کیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب سے یمن میں اپنی حکمرانی تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تاہم، سعودی حکام نے ان دعوؤں کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری اور سفیر رائد کریملی نے اس حوالے سے وضاحت جاری کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وال اسٹریٹ جرنل کی خبر کی دوٹوک تردید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے مطالبات سے متعلق شائع ہونے والی تمام باتیں من گھڑت ہیں۔ یہ کہانیاں خبر لکھنے والوں یا ان کے مبینہ ذرائع کی تخلیق ہیں۔
رائد کریملی نے اپنے بیان میں حوثی ملیشیا پر یمن کی حکومت کے خلاف بغاوت کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق حوثیوں نے یمنی عوام کو قحط کا شکار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حوثیوں نے یمن کو ایسے تنازعات اور ایجنڈوں میں دھکیلا۔ ان کے بقول یہ معاملات یمن اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔
سعودی عہدیدار نے حوثیوں پر بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق گروپ نے شہری اور اقتصادی تنصیبات پر بھی حملے کیے۔
کریملی نے کہا کہ حوثیوں نے امن کی تمام کوششوں کو مسترد کیا ہے۔ انہوں نے خبر لکھنے والوں کو یاد دلایا کہ یمن کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت موجود ہے۔

