پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان اقتصادی جائزے کے تکنیکی مذاکرات مکمل ہوگئے
آئندہ ہفتے سے پالیسی مذاکرات کا آغاز ہوگا ۔حکومت نے بجلی کے گردشی قرض کو ختم کرنے کا پلان آئی ایم ایف کو پیش کر دیا ۔ بجلی کے شعبے کو بھی پرائیویٹ سیکٹر کیلئے کھولا جائے گا
حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ بجلی کا گردشی قرض ختم کرنے کیلئے بینکوں سے 11 فیصد شرح سود پر 1250 ارب روپے قرض لیا جائے گا۔۔۔ سود کی ادائیگی صارفین سے سرچارج کی مد میں وصول کی جائے گی
آئی ایم ایف کو بتایا گیا کہ بینکوں نے رعایتی شرائط پر قرض فراہمی کیلئے گرین سگنل دیدیا ہے۔ گردشی قرض کی ادائیگی کیلئے صارفین سے فی یونٹ 2.80 روپے سرچارج وصول کیا جائے گا ۔
اس وقت پاور سیکٹر کا گردشی قرض 2380 ارب ہے۔ آئی ایم ایف نے ڈسکوز کی نجکاری سے قبل گردشی قرض کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔
آئی ایم ایف نے اس حوالے سے طویل المدتی پلان اور توانائی شعبے پر اس کے اثرات سے متعلق رپورٹ طلب کر لی ہے ، مجوزہ پلان کی تکمیل سے رواں سال بجلی ٹیرف میں 10 روپے تک کی کمی ہو سکتی ہے۔ آئی ایم ایف مشن کو ایف بی آر اصلاحات اور تنظیم نو پر بھی بریفنگ دی گئی ۔۔
آئی یم ایف مشن نے صوبائی حکومتوں کی معاشی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا ۔خیبر پختونخواکے وزارت خزانہ حکام نے معاشی کارکردگی ، اخراجات، ترقیاتی کاموں ،محصولات اور زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کے نفاذ سے آگاہ کیا۔صوبائی سطح پر احتساب کانظام موثر بنانے پر بھی بات چیت ہوئی ۔۔ آئندہ ہفتے سے پالیسی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔۔
