امریکا اور چین تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم، کوالالمپور مذاکرات میں ٹرمپ–شی ملاقات بچانے کی کوشش

چین کے صدر 30 اکتوبر کو جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں امریکی صدر سے ملاقات کریں گے
کوالالمپور — امریکا اور چین کے اعلیٰ اقتصادی حکام نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں دو روزہ مذاکرات کے پہلے دن کی بات چیت مکمل کر لی، جسے امریکی محکمہ خزانہ کے ترجمان نے “انتہائی تعمیری اور مثبت” قرار دیا ہے۔

دنیا کی دو بڑی معیشتیں اس وقت تجارتی جنگ میں مزید بگاڑ سے بچنے اور آئندہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ مذاکرات آسیان (ASEAN) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہو رہے ہیں اور ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 1 نومبر سے نافذ ہونے والے نئے امریکی محصولات اور دیگر تجارتی پابندیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو چین سے آنے والی اشیا پر 100 فیصد تک نئے محصولات عائد کیے جائیں گے۔ یہ اقدامات چین کی جانب سے نایاب زمینی معدنیات کی برآمدات پر پابندیوں کے جواب میں کیے جا سکتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں امریکا نے چینی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد کو برآمدی بلیک لسٹ میں شامل کیا ہے، جس سے گزشتہ مئی میں طے پانے والی عارضی تجارتی جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکی وفد کی قیادت وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کر رہے ہیں، جب کہ چینی وفد کی سربراہی نائب وزیرِاعظم ہی لی فینگ کر رہے ہیں۔ مذاکرات میں چین کے اعلیٰ تجارتی مشیر لی چِنگ گانگ بھی شریک ہیں۔

رائٹرز کے مطابق چینی وفد نے مرڈیکا 118 ٹاور (دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت) میں ہونے والے مذاکرات کے لیے آمد پر صحافیوں کو مسکرا کر ہاتھ ہلایا، مگر کسی نے کوئی بیان نہیں دیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کوالالمپور مذاکرات کامیاب رہے تو ٹرمپ اور شی جن پنگ کی مجوزہ ملاقات ایشیا پیسفک اکنامک فورم (ایپک) کے موقع پر طے پا سکتی ہے، جو تجارتی جنگ میں کمی کی ایک اہم پیشرفت ثابت ہوگی۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے